جانشینی سرٹیفکیٹ — مرحوم کے اثاثے قانونی ورثاء تک
بینک اکاؤنٹ، شیئرز، گاڑی یا کوئی بھی منقولہ اثاثہ — کسی عزیز کے انتقال کے بعد ورثاء کو یہ اثاثے حاصل کرنے کے لیے جانشینی سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے۔ ہم پورا عمل آپ کی طرف سے مکمل کرتے ہیں۔
جانشینی سرٹیفکیٹ کیا ہے؟
جانشینی سرٹیفکیٹ (سکسیشن سرٹیفکیٹ) وہ قانونی دستاویز ہے جو ثابت کرتی ہے کہ مرحوم کے قانونی ورثاء کون ہیں اور انہیں مرحوم کے منقولہ اثاثے — بینک اکاؤنٹ، پرائز بانڈ، شیئرز، انشورنس، تنخواہ و پنشن کے واجبات اور گاڑی وغیرہ — وصول کرنے کا حق حاصل ہے۔
بینک اور دیگر ادارے قانوناً پابند ہیں کہ مرحوم کے اثاثے صرف جانشینی سرٹیفکیٹ پیش کرنے پر ہی ورثاء کے حوالے کریں، چاہے ورثاء میں کوئی اختلاف نہ بھی ہو۔
دو قانونی راستے: نادرا یا عدالت
۲۰۲۱ کے قانون کے بعد جانشینی سرٹیفکیٹ دو طریقوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ درست راستے کا انتخاب ہی وقت اور اخراجات بچاتا ہے:
| نادرا | سول عدالت | |
|---|---|---|
| کب موزوں | جب تمام ورثاء متفق ہوں اور کیس سادہ ہو | جب ورثاء میں اختلاف ہو یا کیس پیچیدہ ہو |
| طریقہ | سکسیشن فیسیلیٹیشن یونٹ میں درخواست اور بائیومیٹرک تصدیق | وکیل کے ذریعے درخواست، شہادت اور عدالتی حکم |
| وقت | عام طور پر چند ہفتے | کیس کی نوعیت کے مطابق |
| شرط | تمام ورثاء کی بائیومیٹرک رضامندی لازمی | کسی وارث کے تعاون کے بغیر بھی ممکن |
قانونی بنیاد
سکسیشن ایکٹ ۱۹۲۵ — جانشینی سرٹیفکیٹ کے اجرا کا بنیادی قانون، عدالتی درخواست اسی کے تحت دائر ہوتی ہے۔
لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹس ایکٹ ۲۰۲۱ — اس قانون کے تحت نادرا کو سادہ اور غیر متنازع کیسز میں سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار دیا گیا۔
ورثاء کے حصے شریعت کے مطابق طے ہوتے ہیں — بیوہ، بیٹے، بیٹیاں، والدین، سب کا حصہ قانون میں متعین ہے۔
عدالتی طریقہ کار — مرحلہ وار
دستاویزات کی تیاری
مرحوم کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (ایف آر سی)، ورثاء کے شناختی کارڈ اور اثاثوں کی تفصیلات جمع کی جاتی ہیں۔
عدالت میں درخواست
اُس سول عدالت میں درخواست دائر کی جاتی ہے جس کے دائرہ اختیار میں مرحوم رہائش پذیر تھے۔ درخواست میں تمام ورثاء اور اثاثوں کی مکمل تفصیل دی جاتی ہے۔
اشتہار اور نوٹس
عدالت کے حکم پر اخبار میں اشتہار شائع ہوتا ہے تاکہ اگر کسی کو اعتراض ہو تو سامنے آئے۔ مقررہ مدت میں اعتراض نہ آنے پر کارروائی آگے بڑھتی ہے۔
شہادت
درخواست گزار اور گواہ عدالت میں بیان دیتے ہیں کہ مرحوم کے قانونی ورثاء یہی ہیں اور کوئی وارث چھپایا نہیں گیا۔
سرٹیفکیٹ کا اجرا
عدالت مطمئن ہونے پر جانشینی سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے، جس میں ہر وارث کا شرعی حصہ درج ہوتا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ بینک اور ہر ادارے کے لیے قانونی سند ہے۔
درکار دستاویزات
- مرحوم کا نادرا ڈیتھ سرٹیفکیٹ
- فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ — ایف آر سی (نادرا سے)
- تمام ورثاء کے قومی شناختی کارڈ کی نقول
- اثاثوں کی تفصیل — بینک اکاؤنٹ نمبر، شیئرز، گاڑی کی رجسٹریشن وغیرہ
- مرحوم کے شناختی کارڈ کی نقل
- بیرونِ ملک مقیم وارث کی صورت میں مصدقہ مختار نامہ (پاور آف اٹارنی)
کس وارث کا کتنا حصہ؟
وراثت میں ہر وارث کا حصہ شریعت کے مطابق متعین ہے — بیوہ کا آٹھواں حصہ (اولاد کی موجودگی میں)، بیٹے کو بیٹی سے دگنا، والدین کے مقررہ حصے، وغیرہ۔ عملی کیسز میں یہ حساب پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
بیرونِ ملک مقیم ورثاء کے لیے
اگر آپ بیرونِ ملک مقیم ہیں تو پاکستان آئے بغیر بھی جانشینی سرٹیفکیٹ کی کارروائی ممکن ہے۔ متعلقہ پاکستانی سفارت خانے سے مصدقہ مختار نامے کے ذریعے آپ ہمیں کارروائی کا اختیار دے سکتے ہیں اور ہم پورا عمل کراچی میں آپ کی طرف سے مکمل کرتے ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے وراثتی مقدمات ہماری خصوصی پریکٹس ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
نادرا سے بنوائیں یا عدالت سے؟
اگر تمام ورثاء متفق ہیں، سب بائیومیٹرک تصدیق کرا سکتے ہیں اور کیس سادہ ہے تو نادرا کا راستہ تیز ہے۔ اختلاف، نابالغ ورثاء یا کسی پیچیدگی کی صورت میں عدالتی راستہ ضروری ہوتا ہے۔ ابتدائی مشاورت میں ہم آپ کو درست راستہ بتا دیتے ہیں۔
اگر کوئی وارث تعاون نہ کرے تو کیا ہوگا؟
نادرا کے لیے تمام ورثاء کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہے، لیکن عدالتی کارروائی کسی وارث کے تعاون کے بغیر بھی مکمل ہو سکتی ہے — عدالت اسے نوٹس جاری کرتی ہے اور حق کسی کا ضائع نہیں ہوتا۔
مکان یا پلاٹ کے لیے بھی یہی سرٹیفکیٹ چاہیے؟
نہیں۔ غیر منقولہ جائیداد کے لیے لیٹر آف ایڈمنسٹریشن درکار ہوتا ہے۔ اگر مرحوم کے اثاثوں میں دونوں قسمیں شامل ہوں تو ہم دونوں کارروائیاں ساتھ ساتھ مکمل کراتے ہیں۔
کتنا وقت لگتا ہے؟
نادرا کے سادہ کیس عام طور پر چند ہفتوں میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ عدالتی کیس کی مدت اشتہار، شہادت اور کیس کی نوعیت پر منحصر ہے — درست اندازہ دستاویزات دیکھ کر ہی دیا جا سکتا ہے۔
کیا بیوہ یا بیٹی اکیلے درخواست دے سکتی ہے؟
جی ہاں۔ کوئی بھی قانونی وارث درخواست دائر کر سکتا ہے۔ سرٹیفکیٹ میں بہرحال تمام ورثاء کے حصے شریعت کے مطابق درج ہوتے ہیں، کسی کا حق متاثر نہیں ہوتا۔
اگر مرحوم کی جائیداد پر کسی نے قبضہ کر لیا ہو؟
یہ الگ قانونی مسئلہ ہے جس کے لیے وراثتی جائیداد کی تقسیم کا دعویٰ یا قبضے کے خلاف کارروائی دائر کی جاتی ہے۔ ہم وراثتی تنازعات کے مقدمات بھی لڑتے ہیں۔
دستاویزات بھیجیں، باقی ہم سنبھال لیں گے
واٹس ایپ پر ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور ایف آر سی بھیجیں — ہم آپ کو درست راستہ اور مکمل تخمینہ بتا دیں گے۔
واٹس ایپ پر رابطہ کریں CALL +92 307 2924764GNS Law Associates — Advocates High Court